Sunday, 25 June 2017

Apni Cousin ko Akele me Choda

یہ کہانی میری اور میری  کزن کے بارے میں ہے. میں اپنی کزن  کے بارے میں بتا دوں، اس کا نام شوانی ہے اور وہ تھوڑی ساولي ہے، لیکن اسکا فگر تو کسی کو بھی مست کر دینے والا ہے. اب میں براہ راست کہانی پر آتا ہوں
.
یہ آج سے 2 سال پہلے کی بات ہے، میں چندی گڑھ میں جاب کرتا ہوں اور میری کزن بھی چندی گڑھ میں ہی جاب کرتی ہے، ہمارے آفس آس پاس ہی تھے اور ہم ایک ہی سوسائٹی میں رہتے تھے، اس لیے صبح جب میں آفس جاتا ہوں تو وہ بھی میرے ساتھ ہی جاتی ہے کیونکہ میں گاڑی سے جاتا تھا. پھر اسی طرح ساتھ جاتے اور آتے پتہ نہیں کب میں اس سے محبت کرنے لگا، لیکن میں شادی شدہ ہوں اور وہ میری بہن جیسی تھی، اس لیے کبھی اس سے کہہ نہیں سکا. لیکن ایک دن میری بیوی اپنے گھر گئی ہوئی تھی، تو میری کزن میرے لئے ڈنر لے کر آئی، کیونکہ ہمارا گھر آس پاس ہی تھا. میں اس وقت میں آپ کے لیپ ٹاپ پر بلیو فلم دیکھ رہا تھا اور جیسے ہی میں نے اس کی آواز سنی، میں نے جھٹسے اپنا لیپ ٹاپ بند کر دیا اور وشروم میں چلا گیا اور جب میں ہاتھ دھو کر باہر آیا تو میرا لیپ ٹاپ شوانی کے پاس تھا اور اس میں وہی بلیو فلم چل رہی تھی اور شوانی اسے دیکھ رہی تھی. میں اس کے پیچھے کھڑا تھا، لیکن شوانی کو یہ پتہ نہیں تھا.


میں نے سوچا کہ آج ہی صحیح موقع ہے اپنے دل کی بات اسے بتانے کا، لیکن کس طرح کہوں؟ یہ سمجھ نہیں آ رہا تھا. پھر اچانک میرے ذہن میں ایک خیال آیا، جب تک مووی چلتی رہی میں خاموشی کھڑا رہا اور جب مووی ختم ہوئی تو میں نے شوانی سے پوچھ لیا کہ مووی کیسی لگی؟ وہ ایک دم ڈر سی گئی اور کچھ نہیں بولی. میں نے آرام سے اس کا ہاتھ پکڑا اور پھر پوچھا کہ بتاو نا مووی کیسی لگی؟ تو اس نے بس اتنا ہی کہا کہ آپ خانہ کھا لینا میں برتن بعد میں لے جاؤں گی. میں نے اس سے کہا کہ بعد میں کیوں؟ میرے پاس تھوڑی دیر بیٹھو نا اور برتن ساتھ میں ہی لے کر جانا تو وہ مان گئی. میں نے کھانا شروع کیا اور ساتھ ہی میں نے دوبارہ شوانی سے پوچھا کہ بتاو نا مووی کیسی لگی؟ تو اس نے کوئی جواب نہیں دیا اور جانے لگی. میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے روکا اور ایک دم سے کہہ دیا کہ شوانی میں نہیں جانتا جو میں کہہ رہا ہوں وہ ٹھیک ہے یا غلط، لیکن تم سے محبت کرنے لگا ہوں. وہ اپنا ہاتھ چھڑانے کی کوشش کرنے لگی.


تو میں نے اس کو اپنی باہوں میں بھر لیا اور زبردستی اسے کس کرنے کی کوشش کرنے لگا، لیکن وہ نہیں مان رہی تھی اور کہہ رہی تھی کہ بھیا یہ غلط ہے، آپ میرے بھائی جیسے ہے اور ہمارے درمیان ایسا رشتہ غلط ہے، پلیز مجھے چھوڑ دو لیکن میں نے اسے نہیں چھوڑا اور اس سے پوچھا کہ ایک بات بتاو میں تمہیں اچھا نہیں لگتا، تو وہ بولی کہ بھیا ایسی کوئی بات نہیں ہے، لیکن بھائی بہن کے درمیان میں یہ سب غلط ہوتا ہے. میں نے اسے اپنی باہوں میں بھر رکھا تھا اور پھر میں نے اس کی چوچی دبانی شروع کر دی اور وہ کہنے لگی کہ بھیا پلیز مت کرو، درد ہوتا ہے.


میں: دیکھ تو مان جائے گی، تو اتنا درد نہیں ہو گا، پلیز مان جاؤ نا.


شوانی: پلیز بھیا، پلیز مجھے چھوڑ دو، مجھے جانے دو. اتنے میں میں نے اسکی ٹی شرٹ میں ہاتھ ڈال دیا تھا اور اس کی چوچييو کو برا کے اوپر سے دبانے لگا.


میں: شوانی تیرے بوبس تو بہت اچھے ہے. پلیز ایک بار مان جا، میں تجھے آج ستاروں کی سیر كرواوگا اور پھر میں اسکی ٹی شرٹ اوپر کرنے لگا، وہ انکار کر رہی تھی، لیکن اب اس کی مخالفت کچھ کم ہو گیا تھا. شاید اس کے بھی ارمان جاگ لگے تھے اور پھر میں نے اسکی ٹی شرٹ کو اور برا کو اوپر کر دیا اور اس کی چونچی چوسنے لگا، تھوڑی دیر میں شوانی کے منہ سے سسکاریاں نکلنے لگی.


شوانی: اااهههه بھیا بہت درد ہو رہا آرام سے کرو.


میں: جانو آرام سے ہی کروں گا، بس اب تو مان گئی ہے تو اب درد کم ہو جائے گا اور میں نے اسے اپنی گود میں اٹھایا اور سونے کے کمرے میں لے گیا اور بیڈ پر لیٹا دیا اور خود اس کے اوپر آ کر اس کی چوچييا چوسنے لگا. اب وہ بھی میرا ساتھ دینے لگی تھی اور میرے بال میں اپنا ہاتھ پھیر رہی تھی اور کہہ رہی تھی.


شوانی: بھیا میں بھی آپ کو بہت پیار کرتی ہوں، لیکن کبھی کہہ نہیں پائی، کیونکہ ہمیشہ بس اتنا ہی سوچتی رہی کہ اس کے بعد میں بھابھی سے کیسے نظر ملا پاوںگی. لیکن آج آپ نے ایسا کر کے میرے سوئے ہوئے ارمان جگا دیے، اااهههههه بھیا پلیز تھوڑا آرام سے چوسو، یہ میرا فرسٹ ٹائم ہے اور میں بھی تو آپ ہی ہوں، آرام سے کرو نا، پلیز.


میں: جانو میں، تو کب سے جانتا تھا کہ تو مجھے چاہتی ہے اور میں بھی تجھے بہت چاہتا ہوں، لیکن صرف کبھی کہہ نہیں پایا، آج موقع ملا ہے. میں ایک ہاتھ آہستہ آہستہ نیچے لے جانے لگا اور اس کی ناف میں گھمانے لگا.


پھر آہستہ آہستہ وہ مست ہوتی گئی، لیکن اتنے میں دروازے کی گھنٹی بج گئی اور ہمیں مختلف ہونا پڑا. میں نے باہر آ کر دیکھا تو آسمان شوانی کا بھائی کھڑا تھا اور وہ پوچھنے آیا تھا، کیونکہ شوانی کو بہت دیر ہو گئی تھی، تو میں نے اس سے کہا کہ بس میں کھانا کھا رہا ہوں اور شوانی اب برتن لے کر آ جائے گی اور میں نے اسے واپس بھیج دیا. لیکن اب شوانی کو بھی جانا تھا، کیونکہ اب اتنی دیر رکنا ٹھیک نہیں تھا، نہیں تو اور کسی کے آنے کا ڈر تھا، لیکن پھر میں نے روم میں آکر دیکھا تو شوانی اپنے کپڑے پہن چکی تھی اور وہ اب جانے لگی تھی، لیکن اس کے چہرے پر بھی ایک اداسی صاف نظر آ رہی تھی. میں نے شوانی کو گلے لگایا اور اس سے کہا کہ پلیز جیسے بھی ہو سکے آج رات کو آ جانا، میں اب تم سے الگ نہیں رہ پاوگا.


شوانی: بھیا، میں بھی کہاں آپ سے الگ رہ پاوںگی، لیکن اگر ممی آنے دے گی تبھی آ پاوںگی اور پھر وہ چلی گئی.


مجھے بالکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ شوانی رات کو واپس آ پائے گی. رات کے 11 بجے تھے اور ڈور بیل بجی اور جب میں نے دروازہ کھولا تو دیکھا کہ سامنے شوانی کھڑی تھی. میں نے اس سے پوچھا کہ کس طرح آئی تو اس نے بتایا ككي اس نے ممی کو یعنی میری خالہ سے بولا کہ بھیا اور میں مووی دیکھنے والے ہے اور میں مووی دیکھ کر واپس آ جاؤں گی. لیکن پہلے تو ممی نے بولا کہ رہنے دو رات کو اچھا نہیں لگتا، لیکن پھر میں نے کہا کہ میرے پاس دن میں ٹائم ہی کہاں ہوتا ہے؟ تو ممی مان گئی. میں نے جلدی سے شوانی کو گھر کے اندر لیا اور دروازہ بند کر دیا.


میں: جانو مجھے نہیں پتہ تھا کہ تم مجھ سے اتنا پیار کرتی ہو.


شوانی: آپ کو کیا پتہ؟ میں آپ سے کتنا پیار کرتی ہوں، میں تو خود اب آپ سے ملنے کے لئے مری جا رہی تھی.


میں: تو جان آو نا میرے ساتھ، اب ہم ساتھ میں مل مووی دیکھتے ہیں اور ہم آپ کے بیڈروم میں آ گئے اور میں نے اپنے لیپ ٹاپ پر ایک اور بلیو فلم شروع کر دی.


شوانی: بھیا، یہ لڑکیاں وہ اپنے منہ میں کس طرح لے لیتی ہے.


میں: جانو ایک بار آپ بھی لے کر دیکھو، اس میں بہت مزہ آتا ہے اور باتیں کرتے ہوئے، میں نے شوانی ٹی شرٹ میں ہاتھ ڈال دیا اور اس کی چوچييا دبانے لگا اور ایک ہاتھ سے اس کی چوت کو کپڑوں کے اوپر سے سہلانے لگا. اب وہ آہستہ آہستہ گرم ہونے لگی تھی.


پھر شوانی نے مجھے کس کرنا شروع کر دیا اور اسی طرح ہم تقریبا 10 منٹ تک کس کرتے رہے اور میں اس کی چوچييا اور چوت کو سہلاتا رہا اور پھر میں نے شوانی ٹی شرٹ اور پاجاما اوتار دیا، اس نے برا اور پیںٹی نہیں پہنی ہوئی تھی . اب وہ میرے سامنے بالکل ننگی لیٹی ہوئی تھی اور پھر میں نے اس کے پورے جسم پر کس کرنا شروع کیا اور کس کرتے کرتے میں نیچے آ گیا اور اس کی چوت پر میں نے جیسے ہی کس کیا تو اس کی سسکاریاں نکلنے لگی.


شوانی: ااههههههه بھیا یہ کیا کر رہے ہو اپپپپپپپ بہت مزہ ااااا رہا ہے.


میں: ابھی تو اور بھی مزہ آئے گا پیارے، بس تم دیکھتی جاؤ اور میں نے شوانی کی چوت کو چاٹنا شروع کر دیا اور وہ ایسے تڑپنے لگی جیسے بغیر پانی کی مچھلی ہو.


شوانی: اوووووووهه بھیا، آئی لو یو، آج مجھے مکمل طور پر آپ بنا لو، بھیا مجھے چود کر کلی سے پھول بنا دو، میں نے یہ چوت آپ کے لئے ہی سنبھال کر رکھی ہوئی تھی.


میں: ضرور پیارے آج میں تمہیں اتنا محبت دوں گا کہ تم مجھے کبھی نہیں جا سکوگی.


شوانی: اوووووووهه بھیا تھینک یو، میں اب آپ سے دور کبھی نہیں جاؤں گی. اس طرح میں شوانی کی چوت کو تقریبا 15 منٹ تک چوستا رہا اور اتنے میں وہ جھڑ گئی، اووووووهه بھیا مجھے پتہ نہیں کیا ہو رہا ہے، ايييييي ممممم بھیا ااهه.


میں: جانو کیسا مزہ آیا؟


شوانی: بھیا آج مجھے پتہ چلا ہے کہ جنسی تعلقات میں کتنا مزہ آتا ہے.


میں: ڈارلنگ، یہ تو ابھی آغاز تھا. آگے آگے دیکھو کتنا مزہ آتا ہے، جیسے میں نے تمہاری چوت چوسی ہے ویسے ہی اب تم بھی میرا لںڈ چوسو اور دیکھو کتنا مزہ ہے.


شوانی: پلیز بھیا نہیں، مجھ سے یہ نہیں ہو گا.


میں: جانو ایک بار لے کر تو دیکھو، اگر نہیں ہوگا تو رہنے دینا، لیکن پلیز ایک بار منہ میں ڈال کر ایک منٹ چوستے تو صحیح اور شوانی نے میرے کپڑے اوتار دیے اور میرے 6 انچ کے لںڈ منہ میں لے لیا اور للي پوپ کی طرح چوسنے لگی.


پھر آہستہ آہستہ اسے مزا آنے لگا اور وہ 10 منٹ تک میرے لںڈ کو چوستی رہی. اب میرا لںڈ ایک سٹیل روڈ کے جیسا ہو چکا تھا، میں نے اپنا لنڈ اس کے منہ سے نکال لیا اور اسے بیڈ پر لیٹا دیا اور میں وشروم میں جا کر تیل کی بوتل لے آیا.


شوانی: بھیا آپ یہ تیل کس لئے لائے ہو؟


میں: ڈارلنگ تمہیں درد نا ہو اس لئے لایا ہوں، تمہارا فرسٹ ٹائم ہے نا.


شوانی: جی ہاں بھیا تھینک یو، آپ میرا کتنا خیال رکھتے ہو.


میں: آخر تم میری جان ہو، میں تمہارا خیال نہیں رکھوں گا تو کون رکھے گا؟


پھر میں نے شوانی کی چوت پر تھوڑا سا تیل ڈالا اور اس کی چوت کے اندر تک 5 منٹ تک مساج کرتا رہا، تاکہ چوت اندر سے نرم ہو جائے اور اسے زیادہ درد نہ ہو اور پھر میں نے اپنا لںڈ اسکی چوت پر رکھا اور اپنے ہوںٹھو سے شوانی کے ہوںٹھو سے ملا دیا، تاکہ وہ آواز نہ کر سکے.


میں: جان اب میں اندر ڈالنے جا رہا ہوں تمہیں تھوڑا سا درد تو ہوگا، لیکن پلیز برداشت کر لینا.


شوانی: ٹھیک ہے بھیا، لیکن پلیز آرام سے کرنا اور پھر میں نے ایک زور دار دھکا لگایا اور میرا لںڈ 2 انچ تک شوانی کی چوت میں گھس گیا اور وہ درد کے مارے چیخ اٹھی، ايييي مممممااا مر گئی، پلیز بھیا آرام سے کرو بہت درد ہو رہا ہے.


میں: میں کچھ دیر کے لئے رک گیا اور جب شوانی کا درد کچھ ٹھنڈا ہوا تو میں نے ایک اور زور کا دھکا لگا دیا، جس سے میرا تقریبا 4 انچ لںڈ اندر جا چکا تھا اور شوانی دوبارہ چللانا چاہتی تھی، لیکن اس بار میں نے اس کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں سے ملا رکھا تھا تو اس کی آواز اندر ہی دب کر رہ گئی اور میں پھر سے کچھ دیر کے لئے رک گیا. پھر ایک آخری جھٹکے کے ساتھ میں نے اپنا پورا لںڈ اندر ڈال دیا. اس بار شوانی کو درد تو ہوا لیکن وہ اسے برداشت کر گئی. پھر میں نے آہستہ آہستہ اندر باہر کرنا شروع کر دیا، تو تھوڑی دیر تو شوانی کو درد ہوا، لیکن بعد میں اسے مزا آنے لگا اؤر وو بڑبڑانے لگ گئی.


شوانی: اووووووهه بھیا، آج آپ نے مجھے کلی سے پھول بنا دیا، آج سے میں آپ کی رنڈی بن کر رہوں گی، آپ جیسے چاہو مجھے چودنا، ااوووهه.


میں: آج کے بعد، تو میں تمہیں ہر جگہ چودوںگا اور تیری چوت کو چود چودکر بھوسڑا بنا دوں گا.


شوانی: جو چاہو بنا دو بھیا، اب یہ چوت بھی تمہاری ہے اور میں بھی تمہاری ہوں.


پھر میں اس کے قریب 25 منٹ تک چودتا رہا، اس دوران وہ ایک بار جھڑ چکی تھی اور وہ دوسری بار جھڑنے والی تھی.


شوانی: بھیا، پلیز اور تیز کرو میں دوبارہ جھڑنے والی ہوں.


پھر میں نے اپنے دھككو کی رفتار بڑا دی اور 5 منٹ کے بعد ہم دونوں ساتھ میں جھڑ گئے میں نے اپنا سارا ویرے اسکی چوت میں ہی چھوڑ دیا تھا. پھر تھوڑی دیر ہم ایسے ہی لیٹے رہے اور تھوڑی دیر کے بعد جب شوانی اٹھی تو اس نے دیکھا کہ نیچے بچھی چادر خون ہی خون میں ہو گئی تھی. اس نے مجھ سے پوچھا کہ بھیا یہ کیا ہوا؟ تو میں نے اسے بڑے پیار سے سمجھایا کہ پہلی بار اکثر ایسا ہو جاتا ہے. پھر ہم نے ساتھ میں شاور لیا اور پھر شوانی جانے کے لئے تیار ہو رہی تھی تو میں نے اس سے کہا کہ میں گھر میں بات کر لیتا ہوں، تم یہیں پر رک جاؤ اور میں نے اپنی خالہ کو فون کر کے بول دیا کہ شوانی مووی دیکھتے دیکھتے سو گئی ہے، وہ صبح آ جائے گی.


خالہ نے کچھ نہیں کہا اور شوانی اس رات میرے ساتھ ہی رک گئی، ہم لوگ ایک ہی کمبل میں پورے ننگی ہوکر ایک ساتھ سوتے رہے. پھر کچھ دیر کے بعد ہمارا دوبارہ دماغ ہوا اور ہم نے پھر سے چدائی کی. اس رات میں نے شوانی کو 3 بار چودا، جس سے اس کی چوت پھولكر موٹی ہو گئی تھی. میں نے رات میں اس درد کی گولی دے دی، جب صبح وہ اٹھی تو اس کے درد میں بہت آرام تھا اور وہ اپنے گھر چلی گئی اور اس کے بعد سے ہمیں جب بھی موقع ملتا ہے ہم لوگ چدائی کرتے ہے.

Rate This Story:

1 comments so far

maza aagya


EmoticonEmoticon

Contact Form

Name

Email *

Message *